ایرانی وزیرِ خارجہ اور جنرل عاصم منیر کا علاقائی پیش رفت پر تبادلۂ خیال
امریکی وزیرِ خزانہ نے حال ہی میں ایران پر ‘تاریخ کی سخت ترین پابندیوں’ کی دھمکی دی ہے
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور افواج پاکستان کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علاقائی صورتِ حال اور سفارتی حل میں پیش رفت کی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا، ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا۔ یہ ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے جب کہ واشنگٹن تہران کو نشانہ بنانے والی نئی پابندیوں کے اعلان کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
اٹھائیس فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے علاقائی امن و سلامتی اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے متعلق معاملات تعطل کا شکار ہیں۔
وزیرِ خارجہ عراقچی اور فیلڈ مارشل منیر کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے بتایا، “ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران فریقین نے تازہ ترین علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا اور موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔”
نیز کہا، “فریقین نے سفارتی رجحانات، سیاسی اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے کے لیے جاری کوششوں اور دوطرفہ مشاورت و تعاون کو بہتر کرنے کے طریقوں پر بھی گفگتو کی۔”
ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع ہے جب عراقچی نے جنرل عاصم منیر سے علاقائی پیش رفت کے بارے میں بات کی ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے ایران پر “تاریخ کی سخت ترین پابندیوں” کی دھمکی کے بعد یہ پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انہوں نے چین پر بھی واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرنے پر زور دیا ہے جو تجزیاتی فرم کیپلر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کا 80 فیصد سے زیادہ تیل خریدتا ہے۔ تاہم بیجنگ نے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کے روز کہا، نئی اقتصادی پابندیوں کا امریکی اعلان اقوامِ متحدہ کی ہر آزاد رکن ریاست پر غیر ملکی خودمختاری کا دعویٰ ہے۔
اسلام آباد نے بارہا تنازعہ حل کرنے کے لیے سفارت کاری پر زور دیا ہے اور گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ چینلز کے ذریعے اس کی “ہر طرح کی کوششیں” جاری تھیں۔
