4

پاکستان : تنازعات کو عدالتوں سے باہر طے کرنے کے لیے او آئی سی کا شراکت دار

پاکستان : تنازعات کو عدالتوں سے باہر طے کرنے کے لیے او آئی سی کا شراکت دار
پاکستان نے ‘او آئی سی’ کے تنازعات طے کرنے والے فورم میں شراکت داری اختیار کی ہے تاکہ تجارتی و دیگر تنازعات کو روایتی عدالتوں میں لے جانے سے پہلے ہی باہمی مشاورت اور سفارتی کاری سے حل کیا جا سکے۔

پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر لمبی عدالتی کارروائیوں کے بجائے تنازعات کے خاتمے کے متبادل طریقوں کو اختیار کرے۔

تنازعات طے کرنے کے متبادل طریقے ‘اے ڈی آر’ تجارت سے متعلق فورمز اور انفرادی تنازعات کو ایک ایسا میکانزم فراہم کرتے ہیں جو ثالثی کے انداز سے تنازعات کا خاتمہ کرتا ہے۔ بجائے اس کے لیے بین الاقوامی سطح پرعدالتی چکروں میں الجھ کر رہ جایا جائے۔

یہ طریقہ کاربین الاقوامی تجارتی امور میں بطور خاص اہم ہے۔ یہ زیادہ قابل بھروسہ ہے۔ پاکستان اس طریقہ کار کا پھیلاؤ کر رہا ہے۔ تاکہ عدالتوں کے سامنے تنازعے لے جانے سے پہلے ہی طے ہو جائیں۔ حکومت پاکستان کے مطابق اس طرح تنازعات ہفتوں میں طے ہو سکتے ہیں اور کم اخراجات کےساتھ طے ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان اس طرح کا تعاون بین الاقوامی روابط کو پختہ کرے گا۔ پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا اس بارے میں کہنا ہے یہ طریقہ کار ثالثی کے مروجہ بین الاقومی طریقے کے بھی قریب تر ہے۔

ان کا یہ بیان پاکستان اور آر بٹریشن سنٹر اور او آئی سی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں فورم پیشہ ورانہ مہارتوں کا تبادلہ کریں گے۔ معلومات اور ان موضوعات پر مطبوعات کا تبادلہ کریں گے ، نیز اپنی متعلقہ ٹیموں کی اہلیت کو مزید بڑھانے کے لیے بھی مل جل کر سیمینار اور کانفرنس منعقد کریں گے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا پاکستان کی خواہش ہے کہ ثالثی کے دائرے کو بڑھائے اور باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرے تاکہ بین الاقوامی فورمز اور ادارے زیادہ مضبوط ہوں۔ اس ناطے پاکستان تجارتی تنازعات کے حل کے لیے بھی کوشاں ہے اور اپنے ہاں سرمایہ کاری لانے کے لیے بھی۔

پاکستان کی اس سلسلے میں شراکت داری روایتی عدالتی چارہ جوئی پر انحصار کو کم کرے گی۔ وزیر قانون نے کہا پاکستان اپنے ہاں تجارتی اور ٹیکسوں سے متعلق امور کو پہلے ہی عدالتوں سے باہر طے کرنے کی کوششیں شروع کر چکا ہے۔ نتیجتاً برسوں میں طے ہونے والے تنازعات اب ہفتوں میں طے ہو رہے ہیں۔

‘او آئی سی’ کا آربٹریشن سنٹر اور’ آئی ایم اے سی’ مشترکہ طور پر پانچ روزہ پروگرام اسلام آباد میں چلا رہا ہے۔ جس کا مقصد سول ، کمرشل اور شریعت سے جڑے معاملات کو ثالثی سے جوڑ کر طے کرنا ہے۔

‘آو آئی سی’ کے آربٹریشن سنٹر کے سیکرٹری جنرل عمر اے اوسینی نے کہا اب نیا معاہدہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ادارے اپنے اس دائرے کو وسعت دینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر تعاون کی راہیں کھلیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں