7

پاکستان نے بھارت کے ہندو مندر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ مسترد کر دیا

پاکستان نے جمعہ کے روز ایک مندر کو نقصان پہنچانے کے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں ایک صدی پرانے ہندو مندر کو طوفانی بارشوں سے نقصان پہنچا اور حکام نے اس کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

لاہور سے تقریباً 130 کلومیٹر دور ضلع نارووال کے سراج گاؤں میں ایک ہندو مندر تنازعے کا مرکز بن گیا ہے جو گذشتہ ماہ تباہ ہو گیا تھا۔ پاکستانی اقلیتی حقوق کے کارکنان کا الزام ہے کہ ایک ملحقہ مدرسے کی توسیع میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اسے دانستہ مسمار کیا گیا جبکہ حکام کا بیان ہے کہ یہ شدید بارش کے بعد منہدم ہوا۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس ہفتے اس تاریخی مندر کی تباہی کے واقعہ کی مذمت کی اور پاکستان سے اس واقعے کی تحقیقات کروانے اور عبادت گاہ کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

ترجماں وزارتِ خارجہ سجاد حیدر خان نے ایک بیان میں کہا، “ہم اڈہ سراج، نارووال میں ہندو مندر کے حوالے سے بھارتی وزارتِ خارجہ کے جھوٹے اور سیاسی محرکات پر مبنی دعوے مسترد کرتے ہیں”۔

نیز کہا، “مندر کے ڈھانچے کو 21 جولائی 2026 کو طوفانی بارشوں کی وجہ سے نقصان پہنچا تھا۔ مقامی حکام پہلے ہی بارش سے ہونے والے نقصان کا معائنہ اور عمارت کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر چکے ہیں۔”

دفترِ خارجہ نے نئی دہلی پر واقعے کو مسخ کرنے کا الزام لگایا اور بدلے میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بھارت کے سلوک پر تنقید کی۔

خان نے کہا، “بھارت کا اقلیتوں پر منظم ظلم و ستم اور ان کی عبادت گاہوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں حملوں کا غیر معمولی ریکارڈ ہے اور حقائق کو اس طرح دانستہ مسخ کرنے سے ان پر سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔”

حکومتِ پنجاب نے بھی بارش سے ہونے والے نقصان کے معاملے کی تائید میں کہا ہے کہ وہ ڈھانچے کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے ایک اقلیتی گروپ پاکستان مسیحا ملت پارٹی نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے الزام ہے کہ لوگوں کے ایک گروہ نے مندر کو دانستہ منہدم کیا اور ملحقہ مدرسے کی توسیع میں سہولت کے لیے اس جگہ سے اینٹیں، دھاتی اشیاء اور دیگر مواد ہٹا دیا۔

حقوق کے گروپ نے مندر کی تعمیرِ نو اور ہندو، سکھ اور عیسائی عبادت گاہوں کے زیادہ تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں