نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان نے نیپالی عوام کو ایک سو ٹن امدادی سامان بھجوایا ہے۔ یہ بات پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے اتوار کے روز بتائی گئی ہے۔ جنوبی ایشیا کی اس ہمالیائی ریاست میں حالیہ دنوں میں اچانک برفانی تودوں کے گرنے سے آنے والے ایک غیر معمولی سیلاب نے زبردست تباہی کی ہے۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق 1300 سے زائدافراد ہلاک اور ہزادوں افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ خطرہ ہے ان لاپتہ افراد میں سے بھی بہت سارے لوگ سیلابی تباہی کی زد میں آنے والی عمارتوں کے ملبے کی نیچے دب گئے ہیں یا پانی بد ترین بہاؤ کے ساتھ ہی بہہ گئے ہیں۔
نیپال کے سرکاری حکام نے ہلاکتوں کی باضابطہ تعداد 1331اور لاپتہ افراد کی تعداد 5000 سے زائد بتائی ہے۔ جو26 اگست سے مسلسل لاپتہ ہیں۔ سیلاب سے چینی علاقہ بھی متاثر ہوا اور اب تک چین کے ہلاک ہونےوالے شہریوں کی تعداد 31 اور لاپتہ افارد کی تعداد 531 بتائی گئی ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم نے اس تباہ کن سیلاب کے بعد نیپالی قیادت سے فون پر رابطہ کر کے اظہار ہمدردی کیا اور قیمتی جانوں کے نقصان پر دلی جذبات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے نیپالی ہم منصب کو بتایا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے۔
بعد ازاں وزیر اعظم کی ہدایت پر نیپالی سیلاب متاثر افراد کے لیے ایک سو ٹن وزنی امدادی سامان نیپال بھیجا گیا ہے۔ اتوار کے روز کارگو پرواز کے ذریعے یہ امداد نیپال پہنچ گئی ہے۔ امداد پاکستان کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ادارے ‘ این ڈی ایم اے ‘ کے اہتمام سے بھجوائی گئی ہے۔
دفتر خارجہ پاکستان کے مطابق امدادی سامان میں خیمے، کمبل ، چٹائیاں اور ادویات بھی شامل ہیں۔ اسلام آباد ایئر پورٹ سے امدادی سامان روانگی کے موقع پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور این ڈی ایم اے کے سربراہ لیفٹینیٹ جنرل انعام حیدر ملک بطور خاص موجود تھے۔
دفر کارجہ نے نیپال کے لیے اس بھجوائی گئی امداد کو پاکستان کی طرف سے مشکل گھڑی میں نیپال اور نیپالی عوام کے ساتھ اظہاریکجہتی قرار دیا ہے۔
